بچوں میں دست اور قے: ماؤں کے لیے ضروری رہنما اور فوری حل

webmaster

아기 설사와 구토 동반 증상 대처법 - **Prompt 1: A Caring Mother and Her Unwell Child**
    A realistic, warm, and comforting image of a ...

سلام میرے پیارے والدین اور بہنوں، امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے! آج میں ایک ایسے موضوع پر بات کرنے والی ہوں جو تقریباً ہر ماں کی نیندیں اڑا دیتا ہے۔ جب ہمارے ننھے منے کو اچانک قے اور دست لگ جائیں تو دل بیٹھ سا جاتا ہے نا؟ مجھے یاد ہے جب میری بھانجی کو پہلی بار یہ مسئلہ ہوا تھا، ہم سب کتنے پریشان ہو گئے تھے۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا ہی رک گئی ہو اور ہم بس اپنے بچے کو ٹھیک کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، کیونکہ بچوں کے چھوٹے سے جسم میں پانی کی کمی بہت تیزی سے ہو سکتی ہے، اور پھر صورتحال سنگین بھی بن سکتی ہے۔ اسی لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں، تاکہ ہم اپنے بچوں کی صحیح طریقے سے دیکھ بھال کر سکیں۔آئیے، آج کی پوسٹ میں ہم بچوں میں قے اور دست کے ساتھ ہونے والی علامات اور ان سے نمٹنے کے مؤثر طریقوں کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔

قے اور دست کی بنیادی علامات کو پہچاننا کتنا ضروری ہے؟

아기 설사와 구토 동반 증상 대처법 관련 이미지 1
جب آپ کا بچہ بیمار ہو، خاص طور پر قے اور دست جیسی تکلیف میں مبتلا ہو، تو سب سے پہلے اس کی علامات کو صحیح طریقے سے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ میں نے اپنی بھانجی کی دیکھ بھال کے دوران یہ اچھی طرح سیکھا ہے کہ بچے اپنی تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، لہٰذا ہمیں ان کے جسمانی اشاروں کو پڑھنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے دلوں کو مزید پریشان کر دیتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ زور دیتی ہوں کہ ماؤں کو اس بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہیے۔ اگر ہم علامات کو بروقت پہچان لیں تو بہت سی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے اور اپنے ننھے منے کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پانی کی کمی (Dehydration) بچوں کے لیے کتنی خطرناک ہو سکتی ہے؟ اگر بچہ زیادہ قے کر رہا ہے یا اس کو بار بار دست آ رہے ہیں تو پانی اور نمکیات کا توازن بہت تیزی سے بگڑ جاتا ہے، جو کسی بھی ماں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہوتا ہے۔ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ کون سی علامات سنگین نوعیت کی ہیں اور کب فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف وقت پر علاج ملتا ہے بلکہ بچے کی حالت بگڑنے سے بھی بچت ہوتی ہے۔

قے اور دست کی عام علامات

عام طور پر، بچے کو ہلکا بخار ہو سکتا ہے، وہ بے چین محسوس کر سکتا ہے، اور کھانے پینے سے انکار کر سکتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی علامات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمارے بچے کو کچھ ہو رہا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری بھانجی کو دست لگے تھے، وہ بالکل سست ہو گئی تھی اور کھیل کود میں بھی کوئی دلچسپی نہیں لے رہی تھی۔ اس کی آنکھیں تھوڑی سی اندر دھنسی ہوئی لگ رہی تھیں، اور یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ اب سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

پانی کی کمی کی خطرناک نشانیاں

اگر آپ کا بچہ سست نظر آ رہا ہے، اس کی زبان خشک ہے، پیشاب کی مقدار کم ہو گئی ہے یا وہ آنسو نہیں بہا رہا تو یہ سب پانی کی شدید کمی کی نشانیاں ہیں۔ ان حالات میں بالکل بھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ بچے کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ ایسی صورتحال میں گھبرانے کے بجائے، فوری اور صحیح فیصلہ لینا بہت اہم ہوتا ہے۔

فوری گھریلو علاج: آپ کے بچے کی صحت کے لیے بہترین پہلا قدم

Advertisement

جب بچہ قے اور دست میں مبتلا ہو تو میرا پہلا رد عمل ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اس کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دوں۔ یہ ایک ایسی ایمرجنسی ہے جسے ہر ماں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ مجھے یاد ہے جب میرے بھتیجے کو یہ مسئلہ ہوا تھا، تو میں نے فوری طور پر نمکول (ORS) کا انتظام کیا تھا۔ میں نے اسے چھوٹے چھوٹے گھونٹ میں پینے کو دیا، تاکہ اس کا چھوٹا پیٹ اسے قبول کر سکے۔ اکثر مائیں یہ غلطی کرتی ہیں کہ ایک دم سے بہت سارا پانی دے دیتی ہیں، جس سے قے دوبارہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ بچہ پانی یا نمکول کو تھوڑا تھوڑا کر کے پیے۔ اس سے جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن آہستہ آہستہ بحال ہوتا ہے اور بچہ کمزور ہونے سے بچ جاتا ہے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، بس تھوڑی سی احتیاط اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر میں اگر نمکول دستیاب نہ ہو تو آپ خود بھی چینی اور نمک کا محلول بنا سکتے ہیں، لیکن نمکول کو ہمیشہ ترجیح دیں۔ میری ماں نے مجھے یہ سکھایا تھا کہ ہر مشکل میں گھبرانے کی بجائے، سب سے پہلے اس کا آسان اور فوری حل تلاش کرو، اور یہ واقعی بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب ہماری ممتا کا حقیقی امتحان ہوتا ہے، اور ہم سب کو اس میں کامیاب ہونا ہے۔

نمکول (ORS) کا صحیح استعمال

نمکول یا Oral Rehydration Salt بچوں میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ اسے پیکٹ پر دی گئی ہدایات کے مطابق صاف پانی میں حل کریں اور ہر قے یا دست کے بعد بچے کو چھوٹے چھوٹے گھونٹ میں پینے کو دیں۔ یاد رکھیں، اسے دودھ یا جوس میں حل نہ کریں۔

گھر میں تیار کردہ آسان محلول

اگر نمکول دستیاب نہ ہو تو ایک گلاس صاف پانی میں ایک چائے کا چمچ چینی اور ایک چٹکی نمک ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں۔ یہ بھی بچے کو پانی کی کمی سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک عارضی حل ہے، اور نمکول ہی بہترین انتخاب ہے۔

بیماری میں بچے کی خوراک کا انتظام: کیا کھلائیں اور کیا نہ کھلائیں؟

جب ہمارا بچہ بیمار ہوتا ہے اور اسے قے یا دست لگے ہوتے ہیں تو اس کا کھانا پینا بالکل بند ہو جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر میرا دل کٹ جاتا ہے، اور میری ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ کھا لے تاکہ اس کی قوت مدافعت کمزور نہ ہو۔ لیکن اس دوران ہمیں بہت محتاط رہنا ہوتا ہے کہ ہم اسے کیا کھلا رہے ہیں اور کیا نہیں۔ مجھے یاد ہے جب میری چھوٹی بھانجی کو شدید دست لگے تھے، ڈاکٹر نے سختی سے کہا تھا کہ اسے دودھ یا ایسی چیزیں نہ دیں جو ہضم ہونے میں مشکل ہوں۔ اس وقت میں نے اسے دہی اور کیلے جیسی ہلکی پھلکی چیزیں دیں جو ہضم کرنے میں آسان تھیں۔ یہ ایک تجربہ ہے جو میں ہر ماں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں کہ بھلے ہی آپ کا بچہ بھوکا لگ رہا ہو، لیکن غلط چیز کھلانے سے اس کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔ ہمیں ایسی خوراک دینی چاہیے جو اس کے پیٹ پر بوجھ نہ بنے اور اسے طاقت بھی فراہم کرے۔ بہت سی مائیں اس وقت بچے کو زبردستی کھانا کھلانے کی کوشش کرتی ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ بچے کو خود سے کھانے دیں اور ایسی چیزیں پیش کریں جو اسے آسانی سے پسند آ جائیں اور اس کے لیے نقصان دہ بھی نہ ہوں۔

دست اور قے میں بہترین غذائیں

کھانے کی چیز تفصیل
نمکول (ORS) پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سب سے اہم۔
دہی پروبائیوٹکس سے بھرپور، ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔
کیلے آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں اور پوٹاشیم فراہم کرتے ہیں۔
چاول کی کھیر ہلکی اور پیٹ کے لیے موزوں غذا۔
ابل ہوا آلو آسانی سے ہضم ہونے والی اور توانائی فراہم کرنے والی چیز۔

کون سی چیزوں سے پرہیز کریں؟

بیماری کے دوران، تلی ہوئی، مرچوں والی، اور زیادہ میٹھی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ پیٹ کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء بھی بعض اوقات مسئلہ پیدا کر سکتی ہیں، خاص طور پر اگر بچے کو لیکٹوز انٹولرینس (lactose intolerance) ہو۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے؟ سنگین علامات پر نظر رکھیں

Advertisement

بحیثیت ماں، میں جانتی ہوں کہ اپنے بچے کو تکلیف میں دیکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس کی تکلیف کو کم کریں۔ لیکن بعض اوقات صورتحال ایسی ہو جاتی ہے کہ گھریلو ٹوٹکے اور عام علاج کام نہیں آتے اور ہمیں فوری طور پر ڈاکٹر کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہوتا ہے جو ہمیں بہت سوچ سمجھ کر لینا ہوتا ہے، اور اس میں ذرا سی بھی تاخیر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری بھتیجی کو دست اور قے کے ساتھ بہت تیز بخار ہو گیا تھا اور اس نے بالکل کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ اس کا رنگ بھی پیلا پڑ رہا تھا، اور تب میرے دل نے کہا کہ اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہم نے فوری طور پر اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا فیصلہ کیا، اور شکر ہے کہ ہم نے صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور کچھ دوائیں تجویز کیں، جس سے وہ بہت جلد صحت یاب ہو گئی۔ میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتی ہوں کہ اگر آپ کو ذرا بھی شک ہو کہ بچے کی حالت خراب ہو رہی ہے تو گھبرانے کی بجائے فوری طور پر طبی مشورہ لیں۔ اپنی ممتا کی آواز کو سنیں، کیونکہ وہ اکثر صحیح ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کو کب دکھانا چاہیے؟

اگر آپ کے بچے کو شدید دست لگ رہے ہیں (خاص طور پر خون کے ساتھ) یا وہ بار بار قے کر رہا ہے اور کچھ بھی پی نہیں پا رہا، تیز بخار ہے جو اتر نہیں رہا، بچہ بے ہوش ہو رہا ہے یا بہت سست ہے، اور اس کی آنکھیں بہت زیادہ دھنسی ہوئی ہیں تو یہ سب خطرناک علامات ہیں۔ ایسی صورت میں ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر بچے کو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

پیڈیاٹریشن سے رابطہ کیوں ضروری ہے؟

بچوں کے ڈاکٹر (پیڈیاٹریشن) بچوں کی صحت کے ماہر ہوتے ہیں اور وہ صحیح تشخیص اور علاج فراہم کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ کیا بچے کو ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہے یا گھر پر ہی علاج ممکن ہے۔ ان کا مشورہ آپ کے بچے کی زندگی بچا سکتا ہے۔

صفائی ستھرائی اور احتیاطی تدابیر: بیماریوں سے بچاؤ کا بہترین دفاع

میں ہمیشہ یہ مانتی ہوں کہ علاج سے بہتر احتیاط ہے۔ خاص طور پر جب بات ہمارے بچوں کی صحت کی ہو، تو صفائی ستھرائی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ میرے گھر میں ہر وقت صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، اور یہ کوئی دکھاوا نہیں بلکہ میرے بچوں کی صحت کے لیے ایک لازمی اصول ہے۔ جب میرا چھوٹا بیٹا گارڈن میں کھیل کر آتا ہے تو سب سے پہلے میں اس کے ہاتھ دھلواتی ہوں۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں ہی ہمیں اور ہمارے بچوں کو بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میری بھانجی کو دست لگے تھے، تو ہم نے گھر میں ہر جگہ جراثیم کش سپرے کیا تھا اور اس کے کھلونے بھی اچھی طرح دھوئے تھے تاکہ جراثیم پھیلنے کا کوئی امکان نہ رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گندے ہاتھ اور ناقص صفائی ہی زیادہ تر پیٹ کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے، ماں ہونے کے ناطے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گھر اور اپنے بچوں کے گرد و پیش کو صاف ستھرا رکھیں تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں، بس تھوڑی سی توجہ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہاتھوں کی صفائی کی اہمیت

بچے کے ڈائپر بدلنے کے بعد، کھانا بنانے یا کھلانے سے پہلے، اور بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد اپنے ہاتھ اچھی طرح صابن اور پانی سے دھوئیں۔ بچوں کو بھی سکھائیں کہ وہ اپنے ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں، خاص طور پر کھانے سے پہلے اور کھیلنے کے بعد۔

گھر اور کھلونوں کی صفائی

اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھیں، خاص طور پر باورچی خانے اور بیت الخلا کو۔ بچوں کے کھلونے بھی باقاعدگی سے صاف کرتے رہیں، کیونکہ بچے اکثر انہیں منہ میں ڈالتے ہیں۔ اس سے جراثیم پھیلنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

عام غلط فہمیاں اور حقیقت: اپنے بچے کی صحت کے بارے میں سچائی جانیں

Advertisement

ہماری سوسائٹی میں بچوں کی بیماریوں کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں اور ٹوٹکے رائج ہیں۔ جب بچہ بیمار ہوتا ہے تو ہر کوئی اپنے تجربے اور سنی سنائی باتوں کے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے۔ بحیثیت ماں، میں نے بھی ان سب باتوں کا سامنا کیا ہے، اور مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ بعض اوقات یہ ٹوٹکے فائدہ پہنچانے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میری بھانجی کو دست لگے تھے، تو کسی نے کہا کہ اسے چائے پلائیں، اور کسی نے کہا کہ اسے کچی لسی دیں۔ میں نے بھی شروع میں کچھ سوچا لیکن پھر میں نے ڈاکٹر کے مشورے کو ترجیح دی، اور یہ میرے لیے بہترین فیصلہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں آپ سب سے یہ کہتی ہوں کہ سنی سنائی باتوں پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہ کریں۔ اپنے بچے کی صحت کے معاملے میں ہمیشہ مستند معلومات اور ڈاکٹر کے مشورے کو ہی ترجیح دیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ ہمارے بچوں کی زندگیوں کا سوال ہے۔ ہم سب کو ذمہ دار بننا چاہیے اور صحیح فیصلہ لینا چاہیے۔

دست اور قے کے بارے میں عام غلط فہمیاں

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب بچے کو دست لگیں تو اسے کھانا پینا بالکل بند کر دینا چاہیے تاکہ دست رک جائیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ کھانا پینا بند کرنے سے بچہ مزید کمزور ہو جاتا ہے اور اس کے جسم میں پانی کی کمی مزید بڑھ جاتی ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ کالے چنے یا چاول کا پانی دست کو روکتا ہے، حالانکہ اس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ بچے کو قے اور دست کے دوران سب سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے جسم میں نمکیات کا توازن برقرار رہے۔ نمکول (ORS) اس صورتحال میں بہترین حل ہے، اور ہلکی پھلکی، آسانی سے ہضم ہونے والی خوراک بہت ضروری ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں، اگر علامات سنگین ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی سب سے بہترین فیصلہ ہے۔

ویکسینیشن کی اہمیت: بیماریوں سے بچاؤ کا جدید طریقہ کار

ہماری آج کی دنیا میں بچوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے ویکسینیشن ایک بہت بڑا تحفہ ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو بہت سی خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میرے بیٹے کو روٹا وائرس کی ویکسین لگی تھی تو میں نے بہت سکون محسوس کیا تھا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ ویکسینز بچوں کو کئی جان لیوا بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ مجھے اس بات پر بہت افسوس ہوتا ہے جب کوئی ماں ویکسینیشن کی اہمیت کو نہیں سمجھتی اور اپنے بچے کو ان بیماریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے جن سے بچا جا سکتا ہے۔ ہم سب کو اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی خواہش ہوتی ہے، اور یہ بہتر مستقبل ان کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ میں اپنی تمام بہنوں سے یہ کہوں گی کہ اپنے ڈاکٹر سے ویکسینیشن کے شیڈول کے بارے میں بات کریں اور اپنے بچے کو تمام ضروری ویکسینز ضرور لگوائیں۔ یہ ہمارے بچوں کو ایک صحت مند زندگی دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

روٹا وائرس ویکسین اور اس کے فوائد

روٹا وائرس وہ وائرس ہے جو بچوں میں شدید دست اور قے کا سبب بنتا ہے۔ روٹا وائرس کی ویکسین بچوں کو اس بیماری سے بچانے میں بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ یہ ویکسین بچوں کو شدید بیماری سے بچاتی ہے اور ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت کو کم کرتی ہے۔

دیگر اہم ویکسینز جو بیماریوں سے بچاتی ہیں

روٹا وائرس کے علاوہ بھی کئی ویکسینز ہیں جو بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچاتی ہیں، جیسے خسرہ، پولیو، ٹیٹنس، اور ہیپاٹائٹس بی۔ اپنے ڈاکٹر سے اپنے بچے کے لیے مکمل ویکسینیشن شیڈول کے بارے میں مشورہ کریں تاکہ آپ کا بچہ ایک صحت مند زندگی گزار سکے۔

بچوں کو قے اور دست سے بچانے کے گھریلو ٹوٹکے اور احتیاطیں

Advertisement

جب بات بچوں کی صحت کی آتی ہے تو ہم مائیں ہمیشہ بہترین گھریلو ٹوٹکوں اور احتیاطوں کی تلاش میں رہتی ہیں۔ میں نے اپنے گھر میں ہمیشہ کچھ ایسے آسان اصول اپنائے ہیں جو میرے بچوں کو بہت سی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ مجھے یاد ہے میری دادی اماں ہمیشہ کہتی تھیں کہ “صافی نصف ایمان ہے”، اور یہ بات واقعی سچ ہے۔ اگر ہم اپنے ماحول کو صاف رکھیں اور کچھ بنیادی احتیاطیں اپنائیں تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ میرے بچوں کو جب میں نے ٹھوس غذا دینا شروع کی تو میں نے بہت احتیاط سے ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا، تاکہ انہیں پیٹ کی کوئی تکلیف نہ ہو۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔

پانی کو ابال کر پینا

خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں، پینے کا پانی ابال کر ٹھنڈا کر کے استعمال کرنا بچوں کو پیٹ کے انفیکشن سے بچانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت پرانا اور مؤثر ٹوٹکا ہے جو ہمارے بزرگ بھی استعمال کرتے تھے۔

تازہ اور صاف خوراک

بچوں کو ہمیشہ تازہ پکا ہوا کھانا کھلائیں اور باسی کھانے سے پرہیز کریں۔ پھلوں اور سبزیوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں، تاکہ جراثیم سے بچا جا سکے۔

آخر میں چند باتیں

پیاری ماؤں اور بہنوں، مجھے امید ہے کہ آج کی گفتگو نے آپ کو اپنے ننھے فرشتوں کی قے اور دست جیسی بیماری کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے میں کافی مدد دی ہوگی۔ یاد رکھیں، ہمت اور بروقت معلومات ہی اس مشکل وقت میں آپ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اپنے بچوں کی معمولی سے معمولی تکلیف کو بھی سنجیدگی سے لیں، کیونکہ ان کی صحت ہماری سب سے بڑی دولت ہے۔ ان کی مسکراہٹ ہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔

جاننے کے لیے مفید معلومات

  1. اپنے بچے کے جسم میں پانی کی کمی کو کبھی بھی نظر انداز نہ کریں۔ شدید دست اور قے کی صورت میں او آر ایس (ORS) کا استعمال ناگزیر ہے، اور اسے چھوٹی مقدار میں بار بار دیتے رہیں۔ اس سے انرجی بھی ملتی ہے اور بچہ کمزور ہونے سے بچ جاتا ہے۔

  2. بچے کو ہلکی، آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں دیں جیسے دہی، کیلا، چاول کی کھیر اور ابلا ہوا آلو۔ تلی ہوئی، مرچوں والی اور مسالے دار چیزوں سے مکمل پرہیز کریں، ورنہ طبیعت مزید خراب ہو سکتی ہے۔

  3. بچوں میں بیماری کی سنگین علامات جیسے تیز بخار جو قابو نہ آ رہا ہو، خون والے دست، بہت زیادہ سستی اور آنکھوں کا اندر دھنسنا، نظر آنے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ وقت کی بچت کر کے آپ اپنے بچے کی جان بچا سکتی ہیں۔

  4. گھر اور بچے کے گرد و پیش کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔ کھانے سے پہلے اور بعد میں، اور بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں تاکہ جراثیم سے بچا جا سکے۔ یہ چھوٹی سی عادت بڑے امراض سے بچاتی ہے۔

  5. ویکسینیشن بچے کو کئی خطرناک بیماریوں سے بچانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ اپنے بچے کو ڈاکٹر کے مشورے سے تمام ضروری ویکسینز ضرور لگوائیں، کیونکہ یہ اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

Advertisement

اہم نکات کا خلاصہ

ہمارے بچوں کی صحت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ قے اور دست بچوں میں عام بیماریاں ہیں، لیکن بروقت احتیاط اور علاج سے ہم ان کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ اس کے لیے نمکول (ORS) کا استعمال سب سے مؤثر حل ہے۔ بچے کو ہلکی اور زود ہضم غذا فراہم کریں۔ اگر بچے کی حالت میں بہتری نہ آئے یا سنگین علامات ظاہر ہوں، تو وقت ضائع کیے بغیر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہت ضروری ہے۔ صفائی ستھرائی کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں اور بچوں کو ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں۔ غلط فہمیوں اور ٹوٹکوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے ہمیشہ مستند معلومات اور طبی مشورے کو اہمیت دیں۔ یاد رکھیں، ویکسینیشن آپ کے بچے کو بہت سی مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ ایک صحت مند بچہ ہی ایک خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔ میری دلی دعا ہے کہ آپ کے بچے ہمیشہ صحت مند اور ہنستے مسکراتے رہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: بچے کو قے اور دست لگ جائیں تو کب ہمیں فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے، یعنی وہ کون سی علامات ہیں جو خطرے کی گھنٹی ہوتی ہیں؟

ج: یہ ایک بہت اہم سوال ہے جو ہر ماں کے ذہن میں آتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری اپنی بھانجی کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تھی، میں نے بھی یہی سوچا تھا۔ دیکھیں، اگر آپ کا بچہ بہت سست اور بے جان نظر آ رہا ہے، آنکھیں دھنسی ہوئی لگ رہی ہیں یا جب روتا ہے تو آنسو نہیں آتے تو یہ پانی کی شدید کمی کی نشانی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر بچہ چھ ماہ سے چھوٹا ہے اور اسے قے یا دست لگے ہیں تو انتظار بالکل نہ کریں۔ اگر بچے کو بہت تیز بخار ہے جو دوا سے بھی نہیں اتر رہا، یا اس کے دست میں خون آ رہا ہے، یا وہ قے میں خون نکال رہا ہے تو یہ بہت خطرناک علامات ہیں۔ ایک اور بات، اگر بچہ مسلسل قے کر رہا ہے اور کچھ بھی پی نہیں پا رہا، یا اسے پیشاب بہت کم آ رہا ہے، تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں، ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں۔ میرے تجربے کے مطابق، ایسی صورتحال میں دیر کرنا بچے کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کا چھوٹا جسم بہت جلدی پانی کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور پھر معاملات بگڑ سکتے ہیں۔

س: قے اور دست کے دوران بچے کو کیا کھلانا پلانا چاہیے تاکہ وہ جلدی ٹھیک ہو سکے اور مزید کمزور نہ ہو؟

ج: جب بچوں کو قے اور دست لگے ہوں تو انہیں کچھ بھی کھلانا پلانا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ ہم انہیں ہائیڈریٹڈ رکھیں اور ہلکی پھلکی غذا دیں۔ سب سے پہلے تو او آر ایس (ORS) کا محلول، یہ بچے کے جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے جادو کی گولی ہے۔ اسے چھوٹے چھوٹے گھونٹ میں وقفے وقفے سے پلاتے رہیں۔ ماں کا دودھ پینے والے بچے کو ماں کا دودھ بالکل بند نہ کریں، بلکہ وقفے وقفے سے زیادہ پلائیں۔ اگر بچہ ٹھوس غذا کھاتا ہے تو ابلی ہوئی کھچڑی، دہی، کیلا، یا ابلا ہوا چاول جیسے ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی چیزیں دیں۔ تلی ہوئی، مرچ مصالحے والی یا بہت میٹھی چیزوں سے پرہیز کریں کیونکہ وہ پیٹ کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب میری دوست کے بچے کو دست لگے تھے، اس نے ڈاکٹر کے مشورے سے دہی اور چاول کھلائے تھے اور بچے کو بہت فرق پڑا تھا۔ صبر سے کام لیں اور بچے کو زبردستی زیادہ کھلانے کی کوشش نہ کریں، بس تھوڑا تھوڑا کر کے دیں۔

س: بچوں میں قے اور دست سے ہونے والی پانی کی کمی سے بچاؤ کے لیے گھر پر ہم کیا ابتدائی اقدامات کر سکتے ہیں؟

ج: پانی کی کمی سے بچنا سب سے اہم کام ہے! جب بچے کو قے یا دست لگیں، تو سب سے پہلے اسے او آر ایس (ORS) کا محلول بنا کر دینا شروع کریں۔ یہ ہر گھر میں ہونا چاہیے اور بچوں کے ہر مسئلے میں کام آتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو چمچ سے یا سرنج سے تھوڑی تھوڑی مقدار میں ہر 5-10 منٹ بعد پلاتے رہیں، چاہے وہ قے بھی کرے تو بھی دوبارہ فوراً تھوڑا سا پلائیں۔ بڑے بچے کو گھونٹ گھونٹ پینے کا کہہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سادہ پانی، لیموں پانی (نمک اور چینی کے ساتھ)، یا چاول کا پانی بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن او آر ایس کو ترجیح دیں۔ میری والدہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ پانی کی کمی کا علاج پانی ہی ہے!
اگر بچہ ماں کا دودھ پی رہا ہے تو اسے مزید وقفے وقفے سے پلائیں۔ گرمی کے موسم میں تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ بچے کو ہر وقت ہائیڈریٹڈ رکھا جائے۔ اگر آپ دیکھیں کہ بچہ زیادہ قے کر رہا ہے اور کچھ بھی جسم میں نہیں ٹھہر رہا تو پھر یہ وقت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ لیکن گھر پر آپ یہ ابتدائی اقدامات کر کے بچے کو پانی کی کمی سے بچا سکتے ہیں اور صورتحال کو بگڑنے سے روک سکتے ہیں۔

📚 حوالہ جات