ننھے پھولوں کو الرجی سے بچائیں: ڈاکٹر کے تجویز کردہ دواؤں کے 7 مؤثر طریقے۔

webmaster

소아과에서 처방하는 알레르기 약 종류 - **Prompt:** "A tender moment in a warm, tidy South Asian living room. A young child, about 6 years o...

بچوں کو الرجی ہونا کسی بھی والدین کے لیے بہت پریشان کن ہوتا ہے، ہے نا؟ جب آپ کا ننھا فرشتہ چھینکتا رہے، اس کی آنکھوں میں خارش ہو یا اسے سانس لینے میں دقت محسوس ہو، تو دل مٹھی میں آ جاتا ہے۔ ایک ماں یا باپ ہونے کے ناطے، سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ “اب کون سی دوا دی جائے گی؟” اور اس سے بھی بڑھ کر، “کیا یہ میرے بچے کے لیے محفوظ ہوگی؟” یقین مانیے، یہ سوالات ہر اس والدین کے دل میں ہوتے ہیں جو اپنے بچے کو تکلیف میں دیکھتے ہیں۔ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ الرجی کے کیسز تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ سائنس نے بھی اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت سی جدید اور مؤثر ادویات متعارف کروائی ہیں۔ مگر اتنی ساری اقسام میں سے اپنے بچے کے لیے بہترین اور محفوظ دوا کا انتخاب کیسے کیا جائے؟ یہی وہ الجھن ہے جس کا سامنا ہم سب کو ہوتا ہے۔ بچوں کے ماہرینِ امراض یعنی پیڈیاٹریشن الرجی کی نوعیت اور بچے کی عمر کے حساب سے مختلف قسم کی ادویات تجویز کرتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کے اپنے خاص فوائد اور استعمال کا طریقہ ہوتا ہے۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں!

소아과에서 처방하는 알레르기 약 종류 관련 이미지 1

اس بلاگ پوسٹ میں، ہم ان تمام ادویات کو بہت تفصیل سے دیکھیں گے تاکہ آپ کو اپنے بچے کی الرجی کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور اسے مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں بھرپور مدد مل سکے۔ آئیے، مزید تفصیلات میں غوطہ لگاتے ہیں!

الرجی کو سمجھنا: بچوں میں یہ کیوں بڑھ رہی ہے؟

ماحول میں بدلتی صورتحال کا اثر

بچوں میں الرجی کا بڑھنا آج کل ایک عام بات ہو گئی ہے، اور اگر آپ بھی میری طرح اس بات سے پریشان ہیں تو یقین مانیے آپ اکیلے نہیں ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ہمارے بچپن میں الرجی کے اتنے کیسز نہیں تھے جتنے اب ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے ارد گرد کا بدلتا ماحول ہے۔ ہوا میں آلودگی، مٹی میں کیمیکلز کا بڑھتا استعمال اور اب نئے نئے پودے جو پہلے نہیں تھے، یہ سب ہمارے بچوں کے مدافعتی نظام (immune system) کو عجیب طرح سے متاثر کر رہے ہیں۔ جب جسم کو ہر وقت ایسی چیزوں سے لڑنا پڑے جو اس کے لیے اجنبی ہوں، تو وہ حساس ہو جاتا ہے اور ذرا سی تبدیلی پر بھی الرجی کی شکل میں ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی چھوٹے بچے کو بہت زیادہ کھلونے دے دیئے جائیں اور وہ فیصلہ ہی نہ کر پائے کہ کس کے ساتھ کھیلنا ہے۔ ہمارا مدافعتی نظام بھی ہر نئی چیز پر ‘اوور ری ایکٹ’ کرنے لگتا ہے۔

خوراک اور طرزِ زندگی کے اثرات

صرف ماحول ہی نہیں، ہمارے کھانے پینے کی عادات اور طرزِ زندگی بھی بچوں میں الرجی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آج کل کے بچے پہلے کے مقابلے میں زیادہ پروسیسڈ فوڈ، اور کم تازہ پھل و سبزیاں کھاتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کے اندرونی نظام کو کمزور کرتی ہیں اور ان میں الرجی سے لڑنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ایک دوست نے بتایا کہ اس کے بچے کو تب تک الرجی رہتی تھی جب تک اس نے اسے بازاری چپس اور کولڈ ڈرنکس نہیں چھوڑوائے۔ جیسے ہی اس نے بچے کی خوراک میں گھر کا سادہ کھانا اور زیادہ پھل شامل کیے، بچے کی الرجی میں واضح کمی آ گئی۔ اس کے علاوہ، ہم آج کل اتنے زیادہ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں کہ بچے کا جسم بہت سے عام جراثیم سے آشنا ہی نہیں ہو پاتا، جس کی وجہ سے اس کا مدافعتی نظام بہت سی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سب مل کر الرجی کو بڑھا رہے ہیں۔

عام الرجی کی علامات اور انہیں کیسے پہچانیں؟

Advertisement

جلد پر ہونے والی علامات

الرجی کی علامات بہت متنوع ہوتی ہیں، لیکن جلد پر ظاہر ہونے والی علامات سب سے زیادہ عام اور واضح ہوتی ہیں۔ میری چھوٹی بھانجی کو جب بھی کوئی چیز راس نہیں آتی، سب سے پہلے اس کی جلد پر سرخ نشانات اور خارش شروع ہو جاتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے اس کا جسم ہمیں بتا رہا ہو کہ “کچھ گڑبڑ ہے!” بچوں کی جلد بہت حساس ہوتی ہے، اس لیے الرجی کی وجہ سے خارش، چھالے، یا اگزیمہ (eczema) ہو سکتا ہے۔ یہ نشانات اکثر ہاتھوں، پیروں، چہرے یا جسم کے دوسرے حصوں پر نمودار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ صرف ایک چھوٹے سے حصے پر ہوتے ہیں اور کبھی پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔ بطور والدین، ہمیں یہ دیکھ کر فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ بچے کو کسی چیز سے الرجی ہو رہی ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ آپ کا بچہ بار بار کسی خاص جگہ کو کھجا رہا ہے، یا اس کی جلد پر غیر معمولی سرخی ہے، تو یہ الرجی کی علامت ہو سکتی ہے۔

سانس اور نظامِ تنفس سے متعلق علامات

جلد کے علاوہ، سانس اور نظامِ تنفس سے متعلق علامات بھی بچوں میں الرجی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جب آپ کا بچہ بار بار چھینک رہا ہو، اس کی ناک بہہ رہی ہو یا بند ہو، یا اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو تو سمجھ جائیں کہ یہ الرجی کی وجہ سے ہے۔ میری اپنی ایک بیٹی کو پولن سے الرجی ہے، اور جب بہار کا موسم آتا ہے تو اس کی ناک اور آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔ الرجی کے باعث بچوں کو کھانسی، گھرگھراہٹ (wheezing)، یا سانس کا پھولنا بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت۔ بعض اوقات شدید الرجی میں دمہ (asthma) جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، جو کافی پریشان کن ہوتی ہیں۔ ان علامات کو نظر انداز کرنا ٹھیک نہیں، کیونکہ یہ بچے کی نیند اور روزمرہ کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

بچوں کی الرجی کے لیے محفوظ اور مؤثر ادویات

اینٹی ہسٹامائنز: فوری آرام کے لیے

بچوں کو الرجی ہونے پر جو ادویات سب سے پہلے ذہن میں آتی ہیں، وہ اینٹی ہسٹامائنز ہیں۔ یہ وہ ادویات ہیں جو ہسٹامائن نامی کیمیکل کے اثرات کو روکتی ہیں، جو الرجی کی علامات جیسے خارش، چھینکیں اور ناک بہنے کا باعث بنتا ہے۔ میں نے اپنے کئی دوستوں کو دیکھا ہے کہ وہ فوری آرام کے لیے یہی استعمال کرتے ہیں۔ میرے ڈاکٹر نے بھی میری بیٹی کے لیے پہلے یہی تجویز کی تھی جب اسے موسم کی الرجی ہوئی تھی۔ آج کل کی نئی نسل کی اینٹی ہسٹامائنز جیسے Cetirizine یا Loratadine، بچوں کے لیے زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان سے غنودگی کم ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی۔ یہ شربت اور ڈراپس کی شکل میں آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ انہیں استعمال کرتے وقت ہمیشہ بچے کی عمر اور وزن کا خیال رکھیں اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہی خوراک دیں۔ میری والدہ کا اصول ہے کہ کبھی بھی کسی بھی دوا کو خود سے زیادہ یا کم نہیں دینا چاہیے، اور یہ بات الرجی کی دواؤں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

ناک کے اسپرے اور آنکھوں کے قطرے

جب الرجی کی علامات خاص طور پر ناک یا آنکھوں میں زیادہ ہوں، تو ناک کے اسپرے اور آنکھوں کے قطرے بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ادویات براہ راست متاثرہ جگہ پر اثر کرتی ہیں، جس سے فوری اور مقامی آرام ملتا ہے۔ ناک کے اسپرے میں اکثر corticosteroids شامل ہوتے ہیں جو ناک کی سوزش کو کم کرتے ہیں اور بند ناک کو کھولتے ہیں۔ میری بہن کا بیٹا جب گرد و غبار سے الرجی محسوس کرتا ہے، تو اسے ناک کے اسپرے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، آنکھوں کے قطرے آنکھوں کی خارش، سرخی اور پانی بہنے کو کم کرتے ہیں۔ ان کا فائدہ یہ ہے کہ یہ جسم پر مجموعی اثرات مرتب نہیں کرتے، بلکہ صرف اس حصے پر کام کرتے ہیں جہاں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ان کا استعمال بھی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ غلط استعمال سے نقصان ہو سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے اپنی بیٹی کے لیے خود ہی آنکھوں کے قطرے لے لیے تھے اور وہ ٹھیک نہیں تھے۔ بعد میں ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی الرجی کی قسم ہی مختلف تھی۔

دمہ اور شدید الرجی کے لیے ادویات

بعض بچوں میں الرجی اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہ دمہ یا دوسرے شدید ردعمل کا باعث بنتی ہے۔ ایسے میں، زیادہ مضبوط ادویات کی ضرورت پڑتی ہے۔ دمے کے مریض بچوں کے لیے انہیلر (inhalers) بہت عام ہیں، جن میں bronchodilators اور corticosteroids شامل ہوتے ہیں۔ یہ ادویات پھیپھڑوں میں ہوا کی نالیوں کو کھولتی ہیں اور سوزش کم کرتی ہیں، جس سے سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ میرا ایک کزن جو بچپن سے دمے کا مریض ہے، انہیلر کے بغیر اس کا گزارا نہیں ہوتا تھا۔ یہ انہیلر اس کے لیے زندگی کی ضمانت ہیں۔ شدید الرجی کے ردعمل (anaphylaxis) کی صورت میں، Epinephrine injector (EpiPen) ایک جان بچانے والی دوا ہے جسے فوری طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کے بچے کو شدید الرجی کا خطرہ ہے تو ڈاکٹر سے اس کے بارے میں ضرور بات کریں۔ ان ادویات کا استعمال ہمیشہ ماہر ڈاکٹر کی زیرِ نگرانی اور مکمل تربیت کے بعد ہی کرنا چاہیے۔ یہ وہ حالات ہیں جب خود سے کوئی فیصلہ لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دواؤں کے علاوہ: قدرتی طریقے اور گھریلو نسخے

Advertisement

گھر کا ماحول صاف ستھرا رکھیں

دواؤں کے ساتھ ساتھ، اپنے بچے کی الرجی کو کنٹرول کرنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ گھر کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب تک گھر میں دھول مٹی اور پالتو جانوروں کے بال صاف نہیں ہوتے، میرے بیٹے کو الرجی کا مسئلہ رہتا ہے۔ سب سے پہلے تو گھر کی صفائی پر خصوصی توجہ دیں، خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں بچے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ فرش کو روزانہ صاف کریں، پردوں اور بستر کی چادروں کو باقاعدگی سے دھوئیں، اور قالینوں کو گہری صفائی دیں۔ میں تو ہر دوسرے دن ویکوم کلینر استعمال کرتی ہوں تاکہ دھول کا ایک ذرہ بھی نہ رہے۔ اگر آپ کے بچے کو دھول کے کیڑوں (dust mites) سے الرجی ہے، تو الرجی پروف بستر کی چادریں اور تکیے کے غلاف استعمال کریں۔ ان کیڑوں کو گرم اور مرطوب ماحول بہت پسند ہوتا ہے، اس لیے کمرے کو خشک اور ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں۔ پالتو جانوروں کے بال بھی الرجی کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے انہیں بستر سے دور رکھیں اور ان کی باقاعدگی سے صفائی کریں۔

صحت مند خوراک اور قوت مدافعت کو بڑھانا

بچے کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانا الرجی سے بچنے کا ایک بہترین قدرتی طریقہ ہے۔ صحت مند اور متوازن خوراک اس میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ میں نے یہ بات کئی بار دیکھی ہے کہ جو بچے گھر کا سادہ اور متوازن کھانا کھاتے ہیں، انہیں الرجی کے مسائل کم ہوتے ہیں۔ اپنے بچے کو تازہ پھل، سبزیاں، اور اناج کھلائیں۔ وٹامن سی اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور غذائیں الرجی کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ دہی اور دیگر پروبائیوٹک (probiotic) غذائیں بھی بچے کے نظام ہاضمہ کو مضبوط بناتی ہیں، جو بالواسطہ طور پر قوت مدافعت پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔ میں اپنے بچوں کو صبح کے ناشتے میں دہی اور پھل ضرور دیتی ہوں۔ اس کے علاوہ، بچے کو کافی مقدار میں پانی پینے کی عادت ڈالیں، کیونکہ پانی جسم سے زہریلے مادے نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر بچے کی اندرونی صحت اچھی ہو گی تو اسے باہر کی چیزیں کم متاثر کریں گی۔

اپنے بچے کی الرجی کا بہتر انتظام کیسے کریں؟

الرجی ٹرگرز کی پہچان اور ان سے بچاؤ

اپنے بچے کی الرجی کا بہتر انتظام کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ الرجی کے ٹرگرز کو پہچانیں اور ان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کو پتہ ہو کہ کونسی چیز آپ کو تکلیف دے گی، تو آپ اس سے دور رہیں گے۔ اس کے لیے ایک الرجی ڈائری رکھیں جس میں بچے کی علامات، اس نے کیا کھایا اور وہ کن چیزوں کے ساتھ رابطہ میں آیا، یہ سب لکھیں۔ میرا بھتیجا جب چھوٹا تھا تو اسے دودھ سے الرجی تھی، اور اس کی ماں نے بہت محنت سے یہ پتہ لگایا کہ اسے کونسی چیزیں پریشان کرتی ہیں۔ ہر بچے کے لیے ٹرگرز مختلف ہو سکتے ہیں، جیسے دھول، پولن، پالتو جانوروں کے بال، بعض غذائیں یا کیڑے مکوڑوں کا کاٹنا۔ جب آپ ٹرگرز کی نشاندہی کر لیں، تو ان سے بچنے کی حکمت عملی بنائیں۔ مثال کے طور پر، اگر پولن سے الرجی ہے تو بہار کے موسم میں بچے کو صبح کے وقت باہر زیادہ نہ جانے دیں اور کھڑکیاں بند رکھیں۔

ڈاکٹر سے باقاعدہ رابطہ اور فالو اپ

الرجی کا انتظام ایک مسلسل عمل ہے اور اس میں ڈاکٹر کا کردار بہت اہم ہے۔ میرے بچوں کو جب پہلی بار الرجی ہوئی تھی، تو میں نے اپنے ڈاکٹر سے کھل کر بات کی اور اس نے مجھے بہت اچھی طرح گائیڈ کیا۔ اپنے بچے کے ماہرِ اطفال (pediatrician) سے باقاعدگی سے رابطہ میں رہیں اور ان سے الرجی کے انتظام کے بارے میں مشورہ لیں۔ وہ آپ کو بہترین ادویات اور بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ یہ نہ سوچیں کہ ایک بار دوا لینے کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ الرجی کی نوعیت بدل سکتی ہے، اس لیے باقاعدہ فالو اپ ضروری ہے۔ ڈاکٹر آپ کو الرجی ٹیسٹ کروانے کا مشورہ بھی دے سکتے ہیں تاکہ بالکل صحیح ٹرگرز کی نشاندہی ہو سکے۔ ایمرجنسی کی صورت میں کیا کرنا ہے، اس بارے میں بھی ڈاکٹر سے ضرور پوچھیں۔ ایک معلوماتی سیشن کے دوران میرے ڈاکٹر نے مجھے بتایا تھا کہ الرجی کے بارے میں مکمل معلومات ہی آپ کو اور آپ کے بچے کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔

ماہرین کی رائے اور والدین کے تجربات

Advertisement

پیڈیاٹریشنز کی اہم تجاویز

میں نے متعدد پیڈیاٹریشنز (بچوں کے ماہرینِ امراض) سے بچوں کی الرجی کے بارے میں بات کی ہے، اور ان سب کی باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ الرجی کو صرف دواؤں سے نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی سے قابو کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین کو سب سے پہلے اپنے بچے کی علامات کو غور سے دیکھنا چاہیے اور انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ “ماں باپ سے بہتر اپنے بچے کو کوئی نہیں جانتا، آپ کی مشاہدہ الرجی کی تشخیص میں سب سے اہم ہے۔” وہ ہمیشہ زور دیتے ہیں کہ خود سے کوئی بھی دوا شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے معاملے میں احتیاط بہت ضروری ہے۔ وہ تجویز کرتے ہیں کہ گھر کو گرد و غبار سے پاک رکھیں، موسمی الرجی کے دوران بچے کو غیر ضروری طور پر باہر نہ نکالیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچہ ایک صحت مند خوراک لے رہا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بہت بڑا فرق ڈال سکتی ہیں۔

دوسرے والدین کے کامیاب تجربات

소아과에서 처방하는 알레르기 약 종류 관련 이미지 2
جب میں دوسرے والدین سے بات کرتی ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ الرجی کا مسئلہ کتنا عام ہے اور ہر کوئی اسے اپنے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک ماں نے مجھے بتایا کہ اس کا بچہ الرجی کی وجہ سے رات بھر سو نہیں پاتا تھا، اور آخر کار اسے پتہ چلا کہ اس کے بچے کو قالین سے الرجی تھی۔ اس نے گھر سے قالین ہٹا دیے اور بچے کی نیند بہتر ہو گئی، جس سے اس کی الرجی بھی کافی حد تک کم ہو گئی۔ ایک اور والد نے بتایا کہ اس نے اپنے بچے کو سیزنل الرجی سے بچانے کے لیے ہر صبح ایک چمچ شہد کھلانا شروع کیا، اور اسے کافی فائدہ ہوا۔ یہ سب تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ بعض اوقات چھوٹی تبدیلیاں اور قدرتی طریقے بھی بڑے کام کر جاتے ہیں۔ یہ کہانیاں مجھے حوصلہ دیتی ہیں کہ ہم اکیلے نہیں ہیں اور بہت سے لوگ انہی مسائل سے گزر رہے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے اور اپنے تجربات بانٹنے چاہییں۔

الرجی کے ساتھ زندگی: روزمرہ کے چیلنجز اور حل

اسکول اور سماجی سرگرمیاں

بچوں کو الرجی ہو تو ان کی اسکول اور سماجی سرگرمیاں متاثر ہونا بہت عام ہے۔ میرے ایک رشتہ دار کے بچے کو شدید پینٹ (peanut) الرجی ہے، اور ہر وقت اس کے والدین کو یہ فکر رہتی ہے کہ کہیں اسکول میں یا کسی پارٹی میں وہ غلطی سے پینٹ نہ کھا لے۔ یہ بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے، ہے نا؟ اس کا حل یہ ہے کہ آپ اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور بچے کے دوستوں کے والدین کو الرجی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کریں۔ انہیں بتائیں کہ الرجی کی علامات کیا ہوتی ہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں کیا کرنا ہے۔ Epinephrine injector (EpiPen) جیسی ضروری ادویات ہمیشہ بچے کے ساتھ رکھیں، اور اسکول میں بھی اس کی ایک کاپی موجود ہو۔ بچے کو بھی سکھائیں کہ اسے کن چیزوں سے بچنا ہے اور الرجی کی صورت میں فوراً کس سے رابطہ کرنا ہے۔ یہ چھوٹی عمر سے ہی خود مختاری سکھانا بہت ضروری ہے۔ اس طرح وہ اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے جی سکے گا۔

نئی غذاؤں اور سفر کے دوران احتیاط

جب آپ کا بچہ الرجی کا شکار ہو تو نئی غذائیں آزمانا یا سفر کرنا ایک مشکل کام بن سکتا ہے۔ میں خود جب اپنے بچوں کے ساتھ باہر جاتی ہوں یا سفر کرتی ہوں تو دس بار سوچتی ہوں۔ اگر آپ کا بچہ کسی خاص کھانے سے الرجی کا شکار ہے تو ہمیشہ ریستوران میں یا جہاں بھی آپ کھانا کھا رہے ہوں، اجزاء کے بارے میں پوچھیں۔ کئی بار چھوٹی سی غلطی بھی بڑے مسئلے کا باعث بن سکتی ہے۔ گھر سے نکلتے وقت ہمیشہ بچے کی الرجی کی ادویات اپنے ساتھ رکھیں۔ سفر کے دوران بھی اضافی احتیاط برتیں، خاص طور پر اگر آپ کسی ایسے علاقے میں جا رہے ہیں جہاں کا ماحول یا خوراک بچے کے لیے نیا ہو۔ میری ایک سہیلی نے جب اپنے بچے کے ساتھ بیرون ملک سفر کیا تو اس نے ڈاکٹر سے ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوایا جس میں بچے کی الرجی اور ضروری ادویات کی تفصیل تھی۔ اس سے اسے ہوائی اڈے پر اور دوسری جگہوں پر بہت آسانی ہوئی۔

الرجی کی دوا کی قسم استعمال اہمیت
اینٹی ہسٹامائنز (Antihistamines) خارش، چھینکیں، ناک بہنے کے لیے فوری آرام فراہم کرتی ہیں، غنودگی کم ہوتی ہے (نئی نسل کی دواؤں میں)
ناک کے اسپرے (Nasal Sprays) بند ناک، ناک کی سوزش کے لیے براہ راست اثر، مقامی آرام فراہم کرتا ہے
آنکھوں کے قطرے (Eye Drops) آنکھوں کی خارش، سرخی، پانی بہنے کے لیے آنکھوں کو فوری سکون، مقامی علاج
برونکو ڈائیلیٹرز (Bronchodilators) دمہ کی صورت میں سانس لینے میں دشواری کے لیے (انہیلر) سانس کی نالیوں کو کھولتا ہے، فوری راحت دیتا ہے
کورٹیکوسٹیرائیڈز (Corticosteroids) شدید سوزش اور دمے کے لیے مدافعتی ردعمل کو کم کرتا ہے، طویل مدتی کنٹرول
ایپی نیفرین انجیکٹر (Epinephrine Injector) شدید الرجی (Anaphylaxis) کے لیے جان بچانے والی دوا، ایمرجنسی میں فوری استعمال

اختتامیہ

Advertisement

میرے پیارے دوستو، بچوں میں الرجی کا مسئلہ آج کے دور میں ایک عام چیلنج بن چکا ہے، اور میں جانتی ہوں کہ بطور والدین یہ کتنا پریشان کن ہو سکتا ہے۔ ہم نے اس بلاگ پوسٹ میں الرجی کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے، اس کی علامات سے لے کر ادویات اور گھریلو ٹوٹکوں تک، ہر پہلو پر بات کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میری اپنی ذاتی رائے اور تجربات نے آپ کو کچھ نئی باتیں سکھائی ہوں گی اور آپ کو یہ احساس دلایا ہوگا کہ آپ اس سفر میں تنہا نہیں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی صحت اور آرام کو یقینی بنانے کے لیے باخبر اور فعال رہنا ہے۔ اگر ہم الرجی کے محرکات کو پہچان لیں، ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں اور گھر کے ماحول کو صحت مند رکھیں، تو میرا پختہ یقین ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک خوشگوار اور صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ساتھ مل کر ہی ممکن ہوتا ہے۔

کارآمد معلومات

1. اپنے بچے کے الرجی کے محرکات (ٹرگرز) کو اچھی طرح سمجھیں اور ایک ڈائری بنا کر ان تمام چیزوں کا ریکارڈ رکھیں جو الرجی کا باعث بنتی ہیں۔ یہ معلومات ڈاکٹر کو بھی درست تشخیص میں مدد دے گی۔

2. گھر کے اندر اور باہر، دونوں جگہوں پر صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، خاص طور پر بستر، پردے اور قالین کی باقاعدگی سے صفائی کریں۔ یہ دھول کے کیڑوں اور پولن سے بچنے میں مدد دے گا۔

3. بچے کی خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں اور گھر کا سادہ کھانا شامل کریں تاکہ اس کی قوت مدافعت مضبوط ہو۔ پروسیسڈ فوڈ اور بازاری مشروبات سے پرہیز الرجی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

4. الرجی کی کسی بھی نئی علامت یا حالت میں فوراً ماہرِ اطفال سے رجوع کریں اور ان کے مشورے کے بغیر کوئی بھی دوا استعمال نہ کریں۔ ڈاکٹر ہی صحیح تشخیص اور علاج تجویز کر سکتا ہے۔

5. اپنے بچے کو بھی اس کی الرجی کے بارے میں آگاہ کریں اور اسے سکھائیں کہ ایمرجنسی کی صورت میں اسے کیا اقدامات کرنے ہیں اور کس سے رابطہ کرنا ہے۔ یہ خود اعتمادی اسے محفوظ رکھے گی۔

اہم نکات کا خلاصہ

یاد رکھیں، بچوں میں الرجی کا مؤثر انتظام صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع طرزِ زندگی اور احتیاطی تدابیر کا مجموعہ ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ہے، ان کے ماحول کو الرجی سے پاک رکھنا ہے، اور سب سے بڑھ کر، ایک ذمہ دار اور باخبر والدین کی حیثیت سے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ صبر اور مستقل مزاجی سے ہی ہم اپنے بچے کو الرجی کے منفی اثرات سے بچا کر ایک مکمل اور خوشحال زندگی فراہم کر سکتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ آپ کے بچے ہمیشہ صحت مند اور ہنستے مسکراتے رہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: بچوں میں الرجی کی سب سے عام اقسام کون سی ہیں اور ان کی علامات کیا ہوتی ہیں؟

ج: دیکھئے، بچوں میں الرجی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں، اور ایک ماں یا باپ ہونے کے ناطے، ہم سب کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم اپنے بچے کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں۔ میں نے اپنے تجربے میں دیکھا ہے کہ سب سے عام الرجی غذا سے متعلق ہوتی ہے، جیسے دودھ، انڈے، مونگ پھلی، یا گندم سے۔ جب بچے کو ایسی چیزوں سے الرجی ہو، تو اس کی جلد پر چھپاکی نکل سکتی ہے، پیٹ میں درد ہو سکتا ہے، یا اسے قے بھی آ سکتی ہے۔ بعض اوقات تو سانس لینے میں بھی مشکل ہو جاتی ہے، اور ایسے میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔دوسری بڑی قسم ماحول سے متعلق الرجی ہوتی ہے، جیسے گرد و غبار، پولن (پھولوں کی ریزش)، یا جانوروں کی کھال سے۔ ایسے میں بچے کو مسلسل چھینکیں آ سکتی ہیں، اس کی ناک بہنا شروع ہو جاتی ہے، آنکھوں میں خارش ہوتی ہے، اور بعض اوقات خشک کھانسی بھی پریشان کن ہوتی ہے۔ میں نے ایک بار دیکھا تھا کہ ایک بچہ گھر میں پالتو جانور کی وجہ سے مسلسل پریشان رہتا تھا، جب اس جانور کو گھر سے ہٹایا گیا تو اس کی علامات بہتر ہو گئیں۔تیسری اہم قسم جلد کی الرجی ہے، جیسے ایگزیما یا چھپاکی۔ یہ سردیوں میں یا کسی خاص کپڑے سے بھی ہو سکتی ہے۔ جلد پر سرخ نشانات، خارش اور خشکی بہت عام ہیں۔ یہ سب باتیں والدین کے لیے فکر کا باعث بنتی ہیں، لیکن اگر آپ ان اقسام اور ان کی علامات کو سمجھ لیں تو آپ بہتر طریقے سے بچے کی مدد کر پائیں گے۔ یاد رکھیں، الرجی کی علامات ہر بچے میں مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے اپنے بچے کے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ہمیشہ بہترین رہتا ہے۔

س: میں کیسے پتہ لگاؤں کہ میرے بچے کو صرف نزلہ زکام ہے یا یہ الرجی ہے؟

ج: یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر والدین کے ذہن میں آتا ہے اور یقین مانیں، میں خود بھی کئی بار اس الجھن کا شکار ہو چکی ہوں۔ کیونکہ نزلہ زکام اور الرجی کی علامات بعض اوقات اتنی ملتی جلتی ہیں کہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن میرا تجربہ کہتا ہے کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو آپ کو فرق سمجھنے میں مدد دیں گی۔نزلہ زکام عموماً وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اکثر بخار، جسم میں درد، گلے میں خراش یا کھانسی بھی ہوتی ہے۔ یہ چند دنوں سے لے کر ایک ہفتے تک رہ سکتا ہے اور پھر خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بچے کو تھکاوٹ اور کمزوری بھی محسوس ہو سکتی ہے۔الرجی کی صورت میں عموماً بخار نہیں ہوتا۔ اس میں بچہ مسلسل چھینکتا رہتا ہے، اس کی ناک سے پانی بہتا ہے (جو کہ صاف ہوتا ہے)، آنکھوں میں بہت زیادہ خارش ہوتی ہے، اور اکثر آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ الرجی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ کسی خاص چیز یا موسم کے ساتھ بار بار ہوتی ہے۔ جیسے اگر آپ کے بچے کو موسم بہار میں ہر سال چھینکیں آنا شروع ہو جائیں، یا کسی خاص جگہ جانے پر اس کی ناک بہنے لگے، تو یہ الرجی کا اشارہ ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ دیکھیں کہ آپ کا بچہ بار بار ایک ہی طرح کی علامات کا شکار ہو رہا ہے، اور بخار نہیں ہے، تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ صحیح تشخیص ہو سکے اور بچے کو غیر ضروری طور پر ادویات نہ دینی پڑیں۔

س: بچوں کے لیے الرجی کی سب سے محفوظ اور مؤثر ادویات کون سی ہیں اور دوا دینے سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

ج: جب بات بچوں کی الرجی کی ادویات کی آتی ہے تو ہر والدین کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ کیا یہ محفوظ ہوں گی؟ کیا ان کے کوئی مضر اثرات تو نہیں ہوں گے؟ میں آپ کی یہ فکر بخوبی سمجھ سکتی ہوں۔ ڈاکٹر عموماً اینٹی ہسٹامائنز (Antihistamines) تجویز کرتے ہیں جو سیرپ یا ڈراپس کی شکل میں دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ الرجی کی علامات جیسے چھینکیں، ناک بہنا اور خارش کو کنٹرول کرنے میں بہت مؤثر ہیں۔ کچھ نئی اینٹی ہسٹامائنز ایسی بھی ہیں جو نیند نہیں لاتیں، جو بچوں کے لیے بہت اچھی ہوتی ہیں۔ناک کی الرجی کے لیے ناسل سپرے بھی استعمال ہوتے ہیں، لیکن یہ عام طور پر بڑے بچوں کے لیے ہوتے ہیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بالکل استعمال نہیں کرنے چاہیئں۔ جلد کی الرجی کے لیے کچھ کریمیں اور لوشن بھی ہوتے ہیں جو خارش اور جلن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔دوا دینے سے پہلے سب سے اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی خود سے دوا تجویز نہ کریں!
ہمیشہ اپنے بچے کے ماہرِ اطفال (پیڈیاٹریشن) سے مشورہ لیں۔ وہ بچے کی عمر، وزن، الرجی کی شدت اور قسم کو دیکھ کر سب سے محفوظ اور مؤثر دوا تجویز کریں گے۔ دوا کی صحیح مقدار (ڈوز) اور اسے کب تک دینا ہے، اس پر سختی سے عمل کریں۔ میں نے ایک بار اپنی دوست کو دیکھا کہ اس نے بچے کو ڈاکٹر کی بتائی ہوئی ڈوز سے زیادہ دوا دے دی تھی اور بچے کو غنودگی ہونے لگی تھی۔ اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہمیشہ دوا خریدتے وقت اس کی ایکسپائری ڈیٹ چیک کریں اور اسے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ اور ہاں، اگر آپ کو لگے کہ دوا دینے کے بعد بچے کی حالت بگڑ رہی ہے تو فوراً ڈاکٹر سے دوبارہ رابطہ کریں۔ آپ کا بچہ، آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

Advertisement